میں نے 2011 میں پاکستانی جیل میں جو وقت گزارا اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس میں سے زیادہ تر مواد جھوٹ پر مبنی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ اب اس کتاب کے بعد ریکارڈ درست ہو جائے گا ۔ اگر میں اس داستان میں کچھ چھپا رہا ہوں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں کوئی ایسی معلومات افشا نہیں کرنا چاہتا جو ہماری اپنی قومی سلامتی اور امریکی سروسز اہلکاروں یا نجی کنٹریکٹرز کی سلامتی کو نقصان پہنچائے ۔ اسی لئے کچھ نام بھی تبدیل کر دیئے گئے ہیں ۔یہ کتاب میرے ذاتی خیالات پر مبنی ہے اور اس کا تعلق امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا کسی بھی ایسے ملٹری اور نجی کنٹریکٹرز کے اداروں سے نہیں ہے جہاں میں ملازمت کرتا رہا ہوں ۔ واضح رہے کہ یہ تمام واقعات میں اپنی یادداشت کے سہارے لکھ رہا ہوں اور میں نے پوری کوشش کی ہے کہ مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو اس کے باوجود چونکہ اس سارے عرصہ میں مجھے دستی گھڑی یا وال کلاک کی سہولت میسر نہیں تھی اس لئے بعض واقعات کی ٹائمنگ میں کچھ فرق آ سکتا ہے۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ میں نے جو گفتگو شامل کی ہے اس کے الفاظ بالکل وہی ہوں جو اس وقت ادا ہوئے تھے ۔
یہ بہت عجیب بات ہے کہ ہماری زندگی میں کئے گئے بہت معمولی اور چھوٹے چھوٹے فیصلے مل کر بعض اوقات بہت بڑے نتائج کے حامل بن جاتے ہیں ۔ اس روز مجھے جاگے ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ ہوا تھا کہ مجھے بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کرنا پڑا ۔ ہمارا ٹیم لیڈر ایک سابق نیوی سیلر تھا ۔ اس نے مجھے بتایا کہ ہمارے پا س اس وقت صرف ایک ہی گاڑی (ایس یو وی ) کھڑی ہے ۔ کیا تمہیں اس کی ضرورت ہے ؟ یا پھر میں اس میں دفتر چلا جاؤں ؟ ۔
ہمارا دفتر پاکستان کے شہر لاہور میں امریکن قونصلیٹ جنرل تھا ۔ نجی ملٹری کنٹریکٹر کے طور پر ہماری ذمہ داری بیرون ملک کام کرنے والے امریکیوں کی حفاظت کرنا تھا ۔ یہ زیادہ خوشگوار کام نہ تھا ۔ کچھ لوگ ہمیں بہترین سکیورٹی گارڈ کہتے تھے تو کئی لوگ ہمیں کرایہ کا قاتل قرار دیتے تھے جن کا کام لوگوں کو قتل کرنا ہے ۔ بہرحال ہمارا جو بھی کام تھا لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ بہت اہم نوعیت کی ذمہ داری تھی ۔ سادہ سی بات اتنی ہے کہ اگر ہم نہ ہوتے تو بیرون ممالک کام کرنے والے مزید کئی امریکی شہری قتل ہو گئے ہوتے ۔
جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں انتہائی خراب سڑکیں ہیں جبکہ ہم سفر کے لئے ایس یو وی گاڑی پسند کرتے تھے ۔ ایک واقعہ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمیں کن حالات میں کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ ایک بار افغانستان میں ایک اہم آپریشن کے لئے میں بڑی ایس یو وی وین لے گیا تھا لیکن دوران سفر اس کا فریم ٹوٹ گیا اور ہم اسے بہت مشکل سے ایک اور گاڑی کے پیچھے باندھ کر واپس لانے میں کامیاب ہوئے۔
لاہور میں ہمارے پاس نسبتاً چھوٹی ایس یو وی تھی ۔ میرا ٹیم لیڈر اسی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ میں نے ہمیشہ ٹیم ورکر کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کی ہے لہذا اس وقت بھی میں نے ٹیم رکن کے طور پر اسے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ ایس یو وی لے جائے ۔ میں آج سفید سیڈان میں چلا جاؤں گا۔میرا ارادہ کرایہ کی کار لے کر لاہور کی سڑکوں پر گھومنے کا تھا ۔ یہاں سے ان واقعات کا آغاز ہوا جس نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا اور پھر یہ سب جان ایف کینڈی سکول ہارورڈ میں ایک کیس سٹڈی کے طور پر پڑھایا گیا کہ کس طرح بظاہر بے ضرر اور چھوٹے چھوٹے واقعات مل کر ایک بڑے بحران کو جنم دیتے ہیں ۔
لاہور میں میرے ساتھ پیش آنے والا یہ حادثہ نصابی کتب میں ایک کیس سٹڈی کے طور پر محفوظ ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے نام سے جڑ گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی سفارتی بحران بن کر آپ کے پیچھے ہو تو پھر آپ ساری عمر اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے ۔ یہ سب میرے ساتھ تب شروع ہوا جب میں نے ایک کنٹریکٹر اور پیشہ ور محافظ ہونے کے باوجود رضاکارانہ طور پر ایک ایسی گاڑی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا جوان حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی جن کا اس روز مجھے سامنا کرنا پڑا ۔ اگر اس دن بھی میں تھوڑا جلدی اٹھ جاتا تو شاید یہ سب نہ ہوتا ۔(جار ی ہے)
![]() | ||||
کنٹریکٹرریمنڈ ڈیوس |

0 Comments
Please do not enter any spam link in the Comment Box.